تجلی ذات

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - انسان کے باطن کا نور؛ خدا کی ذات کا جلوہ۔ "آخری درجہ تجلی ذات کا ہے، جس سے انسان کامل میں الوہیت کے انداز پیدا ہو جاتے ہیں۔"      ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٤٠٤:٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'تجلی' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی اسم 'ذات' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٦٨ء میں "اردو دائرہ معارف اسلامیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - انسان کے باطن کا نور؛ خدا کی ذات کا جلوہ۔ "آخری درجہ تجلی ذات کا ہے، جس سے انسان کامل میں الوہیت کے انداز پیدا ہو جاتے ہیں۔"      ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٤٠٤:٣ )

جنس: مؤنث